ہو نہ جاے بدنام ڈر لگتا ہے

Poet: rizwana By: rizwana, toronto

ہو نہ جاے بدنام ڈر لگتا ہے
جانے کیا ہو گا انجام ڈر لگت ہے

سنا ہے محبت نہیں کوی کھیل
چڑھا تو لیں الفت کا جام ڈر لگتا ہے

یقیں ہے پا ہی لے گے منزل تجھے
پر ہو نہ جاے شام ڈر لگتا ہے

گستاخی نہ ہو جاے ہم سے کہیں
لیتے ہیں ادب سے نام ڈر لگتا ہے

کوجہ محبوب کا چکر ہے لاظم
کہیں چھوٹ نہ جاے در و بام ڈر لگتا ہے

عشق تو کر لیں ہم مگر
ہےجان جھکم کا کام ڈر لگتا ہے
جانے کیا ہو گا انجام ڈر لگت ہے

سنا ہے محبت نہیں کوی کھیل
چڑھا تو لیں الفت کا جام ڈر لگتا ہے

یقیں ہے پا ہی لے گے منزل تجھے
پر ہو نہ جاے شام ڈر لگتا ہے

گستاخی نہ ہو جاے ہم سے کہیں
لیتے ہیں ادب سے نام ڈر لگتا ہے

کوجہ محبوب کا چکر ہے لاظم
کہیں چھوٹ نہ جاے در و بام ڈر لگتا ہے

عشق تو کر لیں ہم مگر
ہےجان جھکم کا کام ڈر لگتا ہے

Rate it:
Views: 787
08 Jun, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL