جنگل کی خشک شام تو پہلے کبھی نہ تھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجنگل کی خشک شام تو پہلے کبھی نہ تھی
یہ زندگی بے دام تو پہلے کبھی نہ تھی
بیکل سی ہوں تڑپتی ہواؤں کے درمیاں
اتنی اداس شام تو پہلے کبھی نہ تھی
جس میں نہ ہو تمہاری وفاؤں کا تزکرہ
یہ زیست میرے نام تو پہلے کبھی نہ تھی
مانا کہ ریل گاڑی ہے غم کی یہ زندگی
اتنی بھی تیز گام تو پہلے کبھی نہ تھی
پینے سے جس کے ہوش اڑے ، جان سے گئے
آنکھوں میں ایسا جام تو پہلے کبھی نہ تھی
وشمہ تمہارے بعد بڑھی وحشتِ الم
گلشن میں گرد عام تو پہلے کبھی نہ تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






