جو بھول گئے تھے برسوں پہلے
Poet: johar mumtaz By: johar mumtaz, Lahoreجو بھول گئے تھے برسوں پہلے،آج یاد آیا تو بہت روئے ہیں
ہنستے تھے اوروں کے غم پہلے،خود غم کھایا تو بہت روئے ہیں
کیسے کاٹتا ہوں تنہاہی کی رات، کسےبتاوں اپنےدل کی حالات
جب بھی چاند میں اُن کا چہرا ، نظر آیا تو بہت روئے ہیں
سوچا تھا لوگوں سے ملیں گے، کچھ کہیں گے کچھ سنیں گے
جب سب نے قصہِ عشق سنایا، تو بہت روئے ہیں
جب بھی گئے دل بہلانے کو،تیری یاد سے پیچھا چھڑانے کو
جب گلوں میں ،کلیوں میں تیرا، لمس پایا تو بہت روئے ہیں
کیے تھے سجدے ہزار ہم نے، کی تھیں منتیں ہزار ان کی
جب در پہ اپنے خالی ہاتھ ، قاصد آیا تو بہت روئے ہیں
اُنہیں بھی بہت دُکھ تھا، شاید کسی کے بچھڑ جانے کا
شعر اٰن کو جوہر نے جب کوئ ، سنایا تو بہت روئے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






