یہ ہجر ووصال کیاہے،شبِ انتظارکیا ہے
Poet: johar mumtaz By: johar mumtaz, Lahoreیہ ہجر ووصال کیاہے،شبِ انتظارکیا ہے
کربلا ہے یا جنت ، آخر یہ پیار کیا ہے
سمجھائیں کیسےتم کو،ہواہےعشق کس سے
رخ آتشیں گلاب، زلفِ آبدار کیا ہے
مجھے چھوڑ کر تم، بیچو گے دل کہاں پر
اے صنم بتاوٗ تو وہ بازار کیا ہے
آجائیں جودل میں،نکلنےکی راہ نہیں ہے
اُن کے ترکش میں آخر یہ خار کیا ہے
گئے جو گلستاں سے وہ،خزاں چھا گئ
باںہوں میں چھپی اُنکےرنگیں بہارکیا ہے
بارش کی شوخیوں میں،دسمبرکی آداسیوں میں
میرا ہمنوا کون ہے،میراغم گُسار کیا ہے
یوںہی آنا بےوجہ خوابوں میں کسی کا
باتوں میں کسی کےنام کی تکرارکیا ہے
اُلجھوگئےجوہر ہربار،چھوڑوقصہ عشق کا
دارِمنصور ،رخِ حضور، کوچہِ یار کیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






