جو حضرت شیخ فرمائیں محبت
Poet: اشرف علی اشرف By: Faizan, Hyderabadجو حضرت شیخ فرمائیں محبت
سبھی کو خوب سمجھائیں محبت
ضروری تو نہیں ہم زندگی میں
محبت کا ثمر پائیں محبت
مجھے گھیرا ہوا ہے نفرتوں نے
نہ دائیں ہے نہ ہے بائیں محبت
ہمارا مشورہ ہے ہر کسی کو
کہ نفرت بیچ کر لائیں محبت
مجھے ہاتھوں کو ان کے چومنا ہے
وہ خوش ہیں کہ جو جو پائیں محبت
نہیں گر لازمی تو اختیاری
نیا مضمون رکھوائیں محبت
وہ جس کے گال پہ چھوٹا سا تل ہے
اسی لڑکی کو سمجھائیں محبت
زمین و آسماں کو چھان مارا
کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں محبت
چلو ہم جا کے دلی میں رہیں اب
اگائیں پیار اور کھائیں محبت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






