محبت کا صلہ کار محبت سے نہیں ملتا
Poet: فرحت احساس By: Wahaj, washingtonمحبت کا صلہ کار محبت سے نہیں ملتا
جو افسانے سے ملتا ہے حقیقت سے نہیں ملتا
میں اس کو اس کے باہر دیکھتا ہوں سخت مشکل میں
کوئی بھی عکس اس کا اصل صورت سے نہیں ملتا
ملاقات اس سے اب تو بالا بالا بھی نہیں ممکن
چھتوں کا سلسلہ ایک اس کی ہی چھت سے نہیں ملتا
کہاں سے لائیں عشق اتنا کہ اس تک بار پائیں ہم
وہ خود بیرون صحرا اہل وحشت سے نہیں ملتا
کہ اب در پیش رہتے ہیں کئی اپنے بھی کام اس کو
وہ پہلے کی طرح اب اپنے فرحتؔ سے نہیں ملتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






