جو روٹھ جاؤں کبھی تو مجھے منا لینا (دو گانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanلڑکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں دور چلا جاؤں تو بلا لینا
جو روٹھ جاؤں کبھی تو مجھے منا لینا
تمھیں خبر ہی کہاں تم کو چاہتا ہوں میں
تمھاری راہ کو ہر آن دیکھتا ہوں میں
تم اپنے پیار سے اپنا مجھے بنا لینا
جو روٹھ جاؤں کبھی تو مجھے منا لینا
لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے بھی تم سے محبت ہے اے مرے ہمدم
یہ پیار میری عبادت ہے اے مرے ہمدم
ہے عرض پیار سے سینے مجھے لگا لینا
جو روٹھ جاؤں کبھی تو مجھے منا لینا
اگر میں دور چلی جاؤں تو بلا لینا
جو روٹھ جاؤں کبھی تو مجھے منا لینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






