جو عشق میں گزارہ لمحہ پسند آیا

Poet: امت احد By: محمد رضوان, Lahore

جو عشق میں گزارہ لمحہ پسند آیا
آنکھوں میں بس گیا جو چہرہ پسند آیا

یوں تو سفر کیا ہے کتنے ہی راستوں پر
لیکن ترے ہی گھر کا رستہ پسند آیا

میری نگاہ میں ہے تیری تلاش باقی
میری دیوانگی کو صحرا پسند آیا

بے شک نبھا نہ پائے وعدہ کیا جو تم نے
لیکن صنم تمہارا وعدہ پسند آیا

اٹھتی ہے اس لیے بھی تیری طرف نگاہیں
تیرے حسین رخ پر چشمہ پسند آیا

غصے میں لگ رہی ہو تم اور خوبصورت
دل کو بہت تمہارا نخرہ پسند آیا

کچھ اور دیکھنے کی حسرت رہی نہ باقی
جب سے صنم تمہارا چہرہ پسند آیا

ہو جائے گی مکمل اب تو غزل یقیں ہے
تیرے حسیں لبوں کا مصرعہ پسند آیا

بے شک بہت شکایت تجھ کو ہے اس جہاں سے
پھر بھی احدؔ یہ تیرا لہجہ پسند آیا

Rate it:
Views: 652
07 Feb, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL