یہ بتا دے مجھ کو میرے دل کسے آواز دوں

Poet: افضل الہ آبادی By: سلمان علی, Multan

یہ بتا دے مجھ کو میرے دل کسے آواز دوں
خود مسیحا ہے مرا قاتل کسے آواز دوں

جتنے ساقی تھے مرے سب نذر طوفاں ہو گئے
اور کوسوں دور ہے ساحل کسے آواز دوں

لے گیا وہ ساتھ اپنے گلشن دل کی بہار
سونی سونی ہے مری محفل کسے آواز دوں

حال میرا خنجر‌ ماضی سے زخمی ہو گیا
رو رہا ہے میرا مستقبل کسے آواز دوں

وہ چلاتا ہے عجب انداز سے تیر نظر
اور میں ہو جاتا ہوں بسمل کسے آواز دوں

کون ہے مشکل کشا میرا قبا تیرے سوا
جب پڑے مجھ پر کوئی مشکل کسے آواز دوں

جاں نچھاور کر رہا تھا مجھ پہ جو افضلؔ کبھی
دشمنوں میں وہ بھی ہے شامل کسے آواز دوں

Rate it:
Views: 611
07 Feb, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL