جو لفظ سینہء قرطاس پر نہیں آیا
Poet: مظہر حسین سیّد By: مظہر حسین سیّد, راولپنڈیجو لفظ سینہ قرطاس پر نہیں آیا
چراغ ہے جو سرِ رہگزر نہیں آیا
وہ پھول بیچنے نکلا تھا صبح بستی میں
پھر اس کے بعد کبھی لوٹ کر نہیں آیا
لہو جلایا گیا رتجگے گزارے گئے
ہمیں تو غیب سے علم و ہنر نہیں آیا
یہ داستانِ الم کس طرح بیاں ہو گی
انھیں سکوت سمجھنا اگر نہیں آیا
یہ احتجاج تھا اس شہر کی فضا کے خلاف
کسی درخت پہ کوئی ثمر نہیں آیا
حدودِشہر کے باہر ہوا تھا رقصِ ہوا
یہاں تو عکسِ ہوا بھی نظر نہیں آیا
تمام عمر کی وحشت کے بعد بھی مظہر
سمجھ میں قصہ ء شام و سحر نہیں آیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






