چاند کو اس کے رو برو کر نا
Poet: Fazlul Hasan (Hasan Shamsi) By: F.H.SIDDIQUI, Lucknow ( India )اس ستم گر کی آرزو کرنا
ہے بس ارماں لہو لہو کرنا
تم سمجھتے ہو گر غلو کرنا
چاند کو اس کے رو برو کرنا
وقت تنہائ کا نکال ذرا
تجھ سے ہے تھوڑی گفتگو کرنا
ہے عجب عادت اس ستمگر کی
چاک کر دینا - پھر رفو کرنا
میری عادت ہے یاد کر کے تجھے
بس اکیلے میں گفتگو کرنا
جتنا چاہو ستم کرو لیکن
جو بھی کرنا ہو رو برو کرنا
عہد کرتا ہوں پارسائ کا
شیخ سکھلا دے اب وضو کرنا
اپنا ہے بس شگفتگی ہی مزاج
مجھ کو آیا نہ تو پہ تو کرنا
تیرا کردار ہو شناخت تری
بیٹے ! یوں مجھ کو سرخرو کرنا
خود ہی ٹوٹیں گے دھاگے سب اک دن
چاک کیوں دامن عدو کرنا
میری کوشش ہے اپنی غز لوں کو
اک تصو ر کے ہو بہو کرنا
کیا پتہ تھا گناہ ہو گا ‘ حسن ‘
اس کو پانے کی آرزو کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






