جو لکھتا ہوں جدائی میں سناتا ہوں فسانوں میں
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaجو لکھتا ہوں جدائی میں سناتا ہوں فسانوں میں
کہ پاگل ہوں دیوانہ ہوں بتاتا ہوں فسانوں میں
اکیلے وہ جو راتوں کو مجھے ملنے کو آتے تھے
نہیں آتے وہ کہتے ہیں میں لاتا ہوں فسانوں میں
میں ان بانہوں میں کب ان کو سلاوں گا حقیقت میں
کہ بانوں میں جنہیں لے کر سلاتا ہوں فسانوں میں
کبھی مَیں نے کھلا جن کو نہیں دیکھا مری جاناں
وہی گیسو تیرے ہاتھوں گھماتا ہوں فسانوں میں
کہا تم نے جسے پتھر اسی دل کو مرے دلبر
حقیقت میں رلاتا ہوں رلاتا ہوں فسانوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






