جو میری یاد کو سینے لگا کے روتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiجو میری یاد کو سینے لگا کے روتا ہے
مرا خیال ہے مجھ کو گنوا کے روتا ہے
اسے تو زعم تھا میں جان دے نہ پاؤں گا
بتاۓ کیوں وہ مجھے آزما کے روتا ہے
بھلا کے لوگ تو اپنوں کو خوش سے رہتے ہیں
یہ میرا دل ہے کہ اس کو بھلا کے روتا ہے
تمام دن جو ہنساتا ہے شہر والوں کو
وہ سارے شہر کو آخر سلا کے روتا ہے
میں کیسے مان لوں اس نے بھلا دیا مجھ کو
جو رات بھر مرے خوابوں میں آ کے روتا ہے
ہے شاید اپنی جفاؤں کا اب اسے احساس
وہ مجھ کو دیکھے تو چہرہ چھپا کے روتا ہے
جو بات بات پہ باقرؔ ہے روٹھتا مجھ سے
کمال ہے وہ مجھے پھر منا کے روتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






