پیار کرتا ہے مگر لوگوں سے ڈر جاتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiپیار کرتا ہے مگر لوگوں سے ڈر جاتا ہے
یوں وہ خود اپنے ہی وعدوں سے مکر جاتا ہے
پورے ہونگے یا نہیں یہ تو ہے قسمت کی بات
اس کا احسان ہے وعدے تو وہ کر جاتا ہے
ایسے تو آندھیاں طوفان نہیں آتے ہیں
کوئ دیوانہ درِ یار پہ مر جاتا ہے
لمس جس شخص کا قسمت میں نہ لکھا نہ ہو کبھی
جانے کیوں شخص وہی دل میں اتر جاتا ہے
اک تری یاد مجھے سونے نہیں دیتی ہے
اور پھر سامنے چاند آ کے ٹھہر جاتا ہے
ہم کو اک شخص کا بچھڑن نہیں سونے دیتا
کیسے اپنوں کے بِنا انس سنور جاتا ہے
شاعری میں جو مجھے آج پزیرائ ملی
اس کا سہرا بھی مرے یار کے سر جاتا ہے
ہم اگر ٹوٹ کے بکھرے ہیں تو کیا غم باقرؔ
زندگی پھول ہے اور پھول بکھر جاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






