جو نظام ہے کائنات کا نہ تو اس میں کوئی کجی ملے
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaجو نظام ہے کائنات کا نہ تو اس میں کوئی کجی ملے
یہ شعور سے ہی پرے ملے تو نظر ہمیشہ تھکی ملے
تو چلا اسی نے دیئے دو دریا کہ اک ہے میٹھا تو اک کھارا
رہے آڑ بیچ میں ان کے ہی تو عجیب کاریگری ملے
جہاں پھول ہیں وہاں کانٹے بھی جہاں کانٹے ہیں وہاں پھول بھی
یہی دھوپ چھاؤں رہے یہاں نہ تو کوئی اس سے بری ملے
رہے حوصلہ تو بلند ہی نہ ذوقِ طلب میں رہے کمی
نہ تو دور ہو گی مراد بھی نہ کبھی سعی میں کمی ملے
نہ کبھی زیاں بھی کسی کا ہو یہی بات پیش نظر رہے
رہے بس دھیان تو اس کا ہی کہ کسی کا من نہ دکھی ملے
یہ چراغ سے ہی جلے چراغ نہ رہے چراغ تو تیرگی
یہی فکر اثر کی ہوگی بس نہ چراغ کی لو بجھی ملے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






