یاد
Poet: طیّب خان گلفام By: طیّب خان گلفام , Bahawalnagar آج مجھے اک گلی یاد آئی
اس گلی کی اک لڑکی یاد آئی
میں تو گویہ گزر چکا تھا
مجھے تو گویہ اپنی برسی یاد آئی
اور وہ جس کا پردہ مجھے دیکھنے کے لیے اٹھتا تھا
مجھے آج اس گھر کی کھڑکی یاد آئی
اور جس میں محبّت کے پتھر اچھالے جاتے تھے
گاؤں کی پرانی وہ ندی یاد آئی
کالی گھٹاؤں کو جو دیکھا آسمان پر
پھر مجھے تیرے بالوں کی گہری لڑی یاد آئی
آخری بار اس گاؤں میں کب گزرے تھے
پھر مجھے تیری رخصتی یاد آئی
جو دیکھتے ہی دیکھتے شہر میں بدل گی طیّب
مجھے وہ ویران سی بستی یاد آئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






