جو نگاہِ ناز میں تھا جچا ، ترا بانک پن وہ کِدھر گیا
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadدلِ مضطرب تجھے کیا ہُوا ، ہے اداس اور بجھا بجھا
جو نگاہِ ناز میں تھا جچا ، ترا بانک پن وہ کِدھر گیا
تری خامشی میں سوال ہے، ترا ضبط بھی تو کمال ہے
ہُوا کچھ توَ ہے کہ نِڈھال ہے، ترا ساز، سوز میں کیوں ڈھلا
یوں گھڑی گھڑی نہ ستا مجھے، جو بُرا لگا ہے بتا مجھے
کوئی زخم ہے تو دِکھا مجھے، تو نہ ضبط میرا یوں آزما
جہاں رک گیا مرا هم قدم ، وہیں آن پہنچے تھے رنج و غم
اُسی موڑ پر ہوئی آنکھ نم، نہیں بھُولتا ہے یہ حادثہ
وہ جو زندگی کی اَساس تھا، وہ جو ایک شخص ہی راس تھا
مِری آس تھا مِرے پاس تھا، کہیں کھو گیا، کہیں جا بسا
وہ تَو ہو گیا کسی اور کا، تو ہے جس کے سوز میں گُھل رہا
تجھے چھوڑ کر جو چلا گیا، وہ نہ مل سکے گا کبھی رضاؔ
نہ فریب میں تو اب اور آ، کہ ہے خار دار یہ راستہ
ابھی وقت ہے مری مان جا ، کہیں جاں نہ لے لے یہ عارضہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







