چوگا اک تے کہاتاں دو

Poet: قراتہ العین طاہرہ By: maqsood hasni, kasur

اوہدے بل دے تل تے
دو زلفاں دے سائے نے
دل پنچھی دی حالت مندی
چوگا اک تے کہاتاں دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملاں تے قاضی چپ چپیتے
رل بیٹھے نے
ایدھر عشق نمان
کیہ کریئے
پکا اک تے کچے دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے مکہڑے تے ڈگیاں
دو زلفاں نے
میرے چت دا چانن کھسیا
ہن حیات وچ رہ گئے
دن اک تے راتاں دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چن ورگا ساقی
غافل کیوں بیٹھا اے
بھر اک جام پھڑا
کون ایڈیکے
کل ملسن
پیالے دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہدیاں مست اکھاں چوں
پئی شراب عشق دی ڈھلے
رنگ نشہ
شراب اکو دا
بھرے پیالے دو

میں کیہ آں
میرے جئے کئی ہور ہزاراں
ابرواں دی تلوار تے
کٹ پورے ہوئیے
اوہدیاں مست اکھاں وچ
میم اک تے لاماں دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملن دا وعدہ کرکے
اوہ ملدا نئیں
دنیا وچ‘
ایہ ان ہونی ویکھی
مرد اک
بلاں وچ کلاماں دو
............
مینوں در اپنے دا
کتا من‘
کمینا چاکر آکھ
دو ناواں وچ
فرق ناں رائی
نوکر اک تے سرناویں دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Rate it:
Views: 695
08 Apr, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL