جو چاہوں بھی تمھیں دلہن بنا نہیں سکتا(گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanملی ہو دیر سے وہ وقت آ نہیں سکتا
جو چاہوں بھی تمھیں دلہن بنا نہیں سکتا
میں چاہتا تھا تمھیں زندگی سے بھی بڑھ کے
مری وفا کی مگر تم نے قدر نہ جانی
مرے خلوص کو ٹھکرا دیا حقارت سے
نہ جان پائی مرے پیار کے کبھی معنی
جو گیت گائے وفا کے وہ گا نہیں سکتا
جو چاہوں بھی تمھیں دلہن بنا نہیں سکتا
تمھاری راہوں سے اب دور آ چکا ہوں بہت
ملی ہے پیار کی مجھ کو نئی حسیں منزل
کیوں مڑ کے دیکھوں امنڈتے ہوئے طوفانوں کو
ہے زندگی کو میسر سکوں بھرا ساحل
میں لوٹ کر انھیں راہوں پہ جا نہیں سکتا
جو چاہوں بھی تمھیں دلہن بنا نہیں سکتا
ملی ہو دیر سے وہ وقت آ نہیں سکتا
جو چاہوں بھی تمھیں دلہن بنا نہیں سکتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






