جو گزر گیا سو گزر گیا۔۔۔۔۔۔
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Islamabadجو گزر گیا سو گزر
نہیں وقت کا ھمیں انتظار
کوئی رنج ھے ،نہ ملال ہے
ھمیں یاد اس کی ستائے کیوں
اسے شوق ترک تعلقات
ھمیں ذوق صبر وثبات ھے
نہ خفا ھوئے
نہ وفا کی شمع بجھی کبھی
وہ تو اک برس کا ھی خواب تھا
جو گزر گیا سو گزر گیا
مجھے اعتبار و یقین نہیں
کہ جلیں گے عشق کے پھر دیے
میرے ساتھہ حادثہ جو ھوا
اسے یاد کر کے روؤں کیوں
جو گزر گیا سو گزر گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






