یاد رکھے یہ زمانہ
Poet: UA By: UA, Lahoreیاد رکھے یہ زمانہ کام ایسا کر جاؤں
دل یہ کہتا ہے تمہاری روح میں اَتر جاؤں
محبت جیتنا چاہو تو بس پھر جی کے ہی جیتو
تم کہو مر جاؤ مجھے اور میں مرجاؤں؟
دیکھنا خیال سے رکھنا میرے ہر خواب کو
خواب ٹَوٹے تو یہ نہ ہو کہ میں بکھر جاؤں
میرے سراپے کا نکھار ماند ہوا جاتا ہے
حسن کا دیدار ملے تو میں بھی نکھر جاؤں
آپ درپن کی طرح سے میرے روبرو رہیں
میں ذرا سا اور تمہیں دیکھ کے سنور جاؤں
جب سے دل محصور ہوا حسن کے حصار میں
سوچتا ہے میرا دل اور میں کدھر جاؤں
عظمٰی تیرے وجود سے میری مہک اَٹھے
میں تمہاری روح میں کچھ اس طرح اتر جاؤں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






