جو ہر پل چمکتی رہتی تھی آنکھیں

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

جو ہر پل چمکتی رہتی تھی آنکھیں
آج ُان آنکھوں میں حسرتوں کے سوا کچھ نا تھا

بہت دوربہت دور تھے ارمان ُان سے کہ
آج ُان آنکھوں میں آنسووں کے سوا کچھ نا تھا

نجانے وہ آنکھیں کسے ڈھونڈ رہی تھی جو
آج ُان آنکھوں میں انتظار کے سوا کچھ نا تھا

وہ چہرے کی مسکراہٹ کتنی جھوٹی لگ رہی تھی کہ
آج فقط ُان ہونٹوں پے دکھاوے کے سوا کچھ نا تھا

وہ رنگ جو گلابوں کی طرح سرخ ہوا کرتا تھا
آج زرد پتوں کی طرح ُاس میں کچھ نا تھا

وہ بھیڑ میں بھی کتنا اکیلا نظر آ رہا تھا شخص
جس کی باتوں میں آج رسوایوں کی سوا کچھ نا تھا

شمع جو ساری رات جل جل کے
بگھل گئی جب ُاسے غور سے دیکھا

تو ُاس میں فقط تیری لکی
حسرتیں دید کے سوا کچھ نا تھا

بڑے پیار سے دیے تھے گلاب ُاس نے مگر
وہ بھول گیا کہ ُان گلابوں میں کانٹوں کے سوا کچھ نا تھا

جو بدل گیا اک پل میں وقت کی طرح لکی
ُاس شخص میں تو محبتوں کے سوا کچھ نا تھا

جب بھی لکھنے بیٹھی تو لکھتی رہی مگر
بل آخر جب پڑا تو فقط اک شخص کی ذات کے سوا کچھ نا تھا

Rate it:
Views: 460
19 Dec, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL