جو ہوگیا سو ہو گیا
Poet: Syed Muhammad Abdul Hadi By: Syed Muhammad Abdul Hadi, Karachiمحبت تیرا کرنا جرم تو نہ تھا جو ہو گیا سو ہو گیا
وفا کی تو نے جفا ملی تجھ کو جو ہوگیا سو ہو گیا
تو نہ آشنہ تھا ستم سے اُسکے،اسی کے جفا سے
گزار دیا ہر اک لمحہ اسکی آس میں جو ہوگیا سو ہو گیا
تو تو گم تھا اسکے خیال میں اسی کے گمان میں
یہ گمان بھی عجب گمان تھا جو ہوگیا سو ہو گیا
نہ اسکو تھی تیری پرواہ ذرا،نہ دھیان اسکو تیرا تھا
کہا تھا اک روز اسنے تجھے جو ہوگیا سو ہو گیا
اک دریا اک ندی اک جنوں تیری اآنکھوں میں تھا
سمندر بن کر بہا گیا موجوں میں جو ہوگیا سو ہو گیا
یہ واقعہ تھا بے رخی کا اک روداد تھی ہادی اسکی
جو خواب بکھر کر ریزہ ریزہ ہوا جو ہوگیا سو ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






