دریا اُداس آنکھ میں شدت عجیب تھی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادریا اُداس آنکھ میں شدت عجیب تھی
اک دل ہے میرےپاس محبت عجیب تھی
کتنے طویل ہیں مرے ایّامِ مفلسی
اُس کو ہے میرے حال پہ حیرت عجیب تھی
میرا سکون ، میری وہ خوشیاں خرید کر
کرتا ہے مجھ سے درد کی شرارت عجیب تھی
جس کے سبب کسی کو بھی عزّت نہیں نصیب
پھر بھی وہ سارے شہر میں راحت عجیب تھی
ہر سمت خوں کی بارشیں ، منظر عجیب ہیں
دامن وفا کا دیس میں مزمت عجیب تھی
اس رات کی ہی صبح کا ہم کو یقیں نہیں
اتنی بھی لاجواب طبیعت عجیب تھی
رکھی ہے آپ نے یہاں کانٹوں سے دوستی
وشمہ تمہارے حُسن کی تمازت عجیب تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






