جواں رکھے مجھے ہر پل وہ حُسنِ یار ماشاء اﷲ
Poet: Ishtiaq Ahmed Yaad By: Ishtiaq Ahmed Yaad, Gilgitجواں رکھے مجھے ہر پل وہ حُسنِ یار ماشاء اﷲ
نشیلے نین جاناں کے ، لب و رُخسار ماشاء اﷲ
چمکتا ہے ترے ماتھے کا جُھومر چاند کے جیسے
کلائی کے حسیں کنگن ، گلے کا ہار ماشاء اﷲ
عبادت جان کر چہرہ تمہارا دیکھتا ہوں میں
ہیں رنگ و روپ مثل ِ گُل، ترا دیدار ماشاء اﷲ
زمانے کی نظر تو جا کے ٹھہری مونا لیزا پر
مری نظروں سے دیکھو تو مر ا دلدار ماشاء اﷲ
تم اپنے دل کی بستی کا بنا ڈالو مجھے مالی
تری بستی کے رنگ و بُو ، گُل و گُلزار ماشاء اﷲ
کِھلے جیسے مہکتی اک کلی شبنم کے گرنے سے
سویرے اس طرح ہونا ترا بیدار ماشاء اﷲ
لِپٹ کر اِن سے مرنے کی بڑی خواہش ہے اب میری
مرے محبوب کے گھر کے درو دیوار ماشاء اﷲ
بُھلایا ہے زمانے نے محبت کے سبھی قصّے
ہر اِک اب کہہ رہا ہے ، ہے تمہارا پیار ماشاء اﷲ
جنونِ عشق و مستی کے نشے میں چُور ر وز و شب
ہوائے شوخ میں رقصاں ہے میرا یار ماشاء اﷲ
حصولِ منزلِ عشق و محبت کے لئے ناصح
سرِ مقتل جو ہو جائے تو وہ اقرار ماشاء اﷲ
میں کورا ہوں سُخن میں اے مری جانِ غزل لیکن
لکھے ہیں میں نے تیرے نام پر اشعار ماشاء اﷲ
رُخِ زیبا پہ ٹکتی ہے نظر اب ہر کسی کی یاد
جبھی تو روز کہتا ہوں اُسے سو بار ماشاء اﷲ
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






