جھوٹ
Poet: میم الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiجھوٹ انسان کو نظروں سے گرا دیتا ہے
جھوٹ ہر رشتے کی بنیاد ہلا دیتا ہے
کون ہوتا ہے یہاں غم میں پریشاں تیرے
جو بھی آتا ہے یونہی آنسو بہا دیتا ہے
جب بھی پوچھا کہ بتا درد کی حد کیا ہے یہاں
خاک ہاتھوں میں وہ لیتا ہے اڑا دیتا ہے
اب تو عادی سا ہوا ہوں میں غموں کو سہتے
صبر لگ کے گلے مجھ کو ہی رلا دیتا ہے
دستِ شفقت نہ رہا باپ کا سر پر میرے
کوئی تو ہے جو مجھے اب بھی دعا دیتا ہے
جب بھی محسوس ہوئی کوئی کمی بھی مجھ کو
میرا ماضی مجھے آئینہ دکھا دیتا ہے
روز کہتا ہوں کہ بن جاؤں زمانے جیسا
روز اندر سے کوئی شور مچا دیتا ہے
میں جنہیں روز جگاتا ہوں قلم سے اپنے
دے کے تلوار انہیں کون سلا دیتا ہے
کون ہوتا ہے برے وقت میں اپنا ارشیؔ
پیڑ سوکھے ہوئے پتوں کو گرا دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry






