جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiچھوڑ کر چل دیا بے سہارا مجھے
دے گیا زندگی کا خسارہ مجھے
شانوں پہ اس کے جب ہم نے سر رکھ دیا
جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
خواب جو بھی تھے دیکھے تمہارے میں نے
سب سے کرنا پڑا ہے کنارہ مجھے
لاکھ اب وہ کرے بات اقرار کی
ساتھ اس کا نہیں اب گوارا مجھے
ہم نے کی ہے محبت غلامی نہیں
کیوں سمجھتے ہو تم اپنا کارہ مجھے
کوئی شکوہ نہیں ہے مجھے غیر سے
اپنوں کی ہی عنایت نے مارا مجھے
دو قدم ہی چلا ہوگا وہ شب ہجر
جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
جا رہا ہوں ترے شہر سے روٹھ کر
اب نہ دیکھو گے تم بھی دوبارہ مجھے
میں تو ہوں اجنبی اس نئے شہر میں
نام سے میرے کس نے پکارا مجھے
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL







