جھیل
Poet: Mehram Sajjad Ganga By: Sajjad Hussain Ganga, lahore سنو جھیل محبت کی طرف لوگو ہمارا لانگ ٹور تھا
مجھے بالواسطہ اس نے یہی پیغام بھیجا
کہ تمھیں بھی ساتھا چلنا ہے
اسے میں نے کہا دیکھو
ابھی جذبات ٹھنڈے ہیں
محبت راز ہے اب تک
مگر ٹھنڈے علاقوں میں
مری ، کاغان،یا جھیلِ محبت کے حسیں لب پر
جہاں بادل، ہوا ٹھنڈی
حسیں اور دلربا چنچل سی
مٹیاروں کی زلفو ں کو شرارت سے جو چھیڑیں گے
تو ایسے میں تیرا محرم
تجھے پریوں میں دیکھے گا
کئی جذبوں میں الجھے کا
تجھے باہوں میں لینے کی تمنا جاگ جائے گی
بہت ہنستے ہوئے اس نے کہا سکھیو کہو اس سے
جو ہوگا دیکھا جائے گا
اسے اتنا کہوں گا
میرے دل میں یہ خواہش ہے
مجھے ٹھنڈی ہواؤں میں
مجھے جنت سی وادی میں
پری بن کر اچھلنا ہے
تمہیں بس ساتھ چلنا ہے
تمہیں بس ساتھ چلنا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






