مہتاب بہت ہیں
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMتیری اس بزم میں مہتاب بہت ہیں
میرے شعر بھی نایاب بہت ہیں
جہاں دیکھتا ہوں تم ہی تم ہو
میری آنکھوں میں سراب بہت ہیں
یہ اور بات کے میں کچھ نہیں کہتا
ورنہ تیری باتوں کے جواب بہت ہیں
تیری آنکھوں کی گہرائی ہے سمندر کی طرح
میرے لیے ان میں گرداب بہت ہیں
تمہیں تو میری یاد نہیں آتی کبھی
ہم تم سے ملنے کو بیتاب بہت ہیں
سر تھام کے کیوں بیٹھ گئے اصغر
زیست میں ابھی عتاب بہت ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







