جی رہا ہوں کہ مر گیا ہوں میں
Poet: سلیم سرمد By: Saleem Sarmad, DG Khanجی رہا ہوں کہ مر گیا ہوں میں
مجھ کو ڈھونڈو کدھر گیا ہوں میں
ایک عرصہ سے کال نا میسج
دل سے شاید اتر گیا ہوں میں
اپنی حالت پہ کیا نظر ڈالی
اپنی حالت سے ڈر گیا ہوں میں
اب محبت کی بات مت کرنا
مہ جبینو سدھر گیا ہوں میں
تیرے ہاتھوں نے جب سے مسلا ہے
مثل _خوشبو بکھر گیا ہوں میں
باتوں باتوں میں عہد _الفت سے
آج پھر سے مکر گیا ہوں میں
حق تو یہ تھا بچھڑ کے مر جاتا
غم تو یہ ہے نکھر گیا ہوں میں
میں تھا سرمد ہوا کا اک جھونکا
چھو کے تجھ کو گزر گیا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






