ان کا مزاج اب تو یکسر بدل گیا
Poet: سلیم سرمد By: Saleem Sarmad, DG Khanان کا مزاج اب تو یکسر بدل گیا
دریا ر خ_بہاؤ کیوں کر بدل گیا
دل میں بسا ہے ان کے اب اور کوئی شاید
مندر وہی ہے لیکن پتھر بدل گیا
تجسیم کر رہا تھا مجھ کو خدا لگن سے
تخلیق کرکے اپنے تیور بدل گیا
باتیں وہی تھیں لیکن شدت نہیں تھی وہ
باہر وہی تھا لیکن اندر بدل گیا
کتنی ہی چاہ،قسموں وعدوں کے با وجود
کیسے کہوں وفا کا پیکر بدل گیا
مۓ نہ سبو،نہ جام نہ کوئی انجمن
ان سے کہو تمھارا شاعر بدل گیا
تھوڑا سا دور جا کے لوٹا لپٹ گیا،
لمحوں میں کس طرح یہ منظر بدل گیا
سرمد اسے سلامت رکھے سدا خدا
میرے مزار کی جو چادر بدل گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






