کہانی سیل غم کی اب سنانا بھول جاتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجو آنے والے کل کا بھی زمانہ بھول جاتے ہیں
وہ صحرائے انا میں مسکرانا بھول جاتے ہیں
یہ اس دورِ کشاکش نے تو یوں رکھا ہے ٹھوکر پر
کہانی سیل غم کی اب سنانا بھول جاتے ہیں
ترا دیدار حاصل ہے مگر ہجرت کے موسم میں
یوں جس منصب پہ فائز ہیں بتانا بھول جاتے ہیں
جو ذہن و دل میں زہریلی ہوا کے تیر چلتے ہیں
تری یادوں کے پتھر بھی اٹھانا بھول جاتے ہیں
انہیں غیروں کی بستی میں نہیں ملتی کبھی عزت
جو اپنے ملک و ملت کا ترانہ بھول جاتے ہیں
خزاں جب وار کرتی ہے شجر گرتے ہیں گلشن میں
پرندے ایسے میں سب آب و دانہ بھول جاتے ہیں
جو رہتے ہیں گھٹن کے دائروں میں ہی سدا وشمہ
حصارِ جسم سے باہر وہ آنا بھول جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






