جے بی ایس ایس

Poet: saiyaan_sham By: saiyaan_sham, rawalpidi

ہم اپنی پہچان بھیجے گے
تمہیں اپنی ایماں بھی بھیجے گے
بس تھوری شام ڈھلنے دو
ھمیں تھوڑا اندھیروں میں جلنے دو
ھم تمھیں اپنی انا اپنی شان
اپنا نام بھی بھیجے گے
واعدہ ہے تم سے
اندھیروں میں بھی بجھہ گے گر ہم تو
تمھیں اک پیغام بھیجے گے
اک قاصد کے ہاتھہ تمھیں اپنے
کفن کا سامان بھیجے گے
ہمیں اپنے ہاتھہ سے پہنانا
اور اپنے ہاتھہ سے دفنانا
پھر کسی دن باد صبا کا اک جھونکا تمہیں چھو کر بولے گا
ہم وہاں سے آئے ہیں
جہاں پہ آپ کے سائے ہیں
تب محسوس ہو گا تمہیں
سلام بھیجا ہے
تیرے ہی نام بھیجا ہے
سیاں تیرے ہی نام بھیجا ہے
زندگی تم سے وابستہ ہے
ہمیں جینے کا کوئی سامان بھیجوں
یہ سانسیں تم میں بستی ہیں
ہمیں تم اپنی پھچان بھیجو
مجھے تم اتنا سمجھاؤ
یہ کیسے ممکن ہے
تمھارے نا ہونے سے
ہماری سانسیں جو چلتی ہوں
بھلا یہ کیسے ممکن ہیں
اسی قاصد کے ہاتھہ ہم اپنی جان بھیجے گے
تم ایسا کرنا
پھر اپنے بے جان وجود میں
ہماری جان ڈال دینا
اور پھر ہم ایک ہو جائے گے
اس دنیا سے جا کر بھی

Rate it:
Views: 529
06 Oct, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL