حاشیے اپنے زِیر و زَبر بھی ہوئے
Poet: imran Gohar By: imran Gohar, Faisalabadایک گُل کیا گِرا ہاتھ سے چھوٹ کر
ہم کو تیرے بچھڑنے کی یاد آ گئی
دل جُڑا ہی نہیں تھا ابھی ٹوٹ کر
پھر سے تیرے بچھڑنے کی یاد آگئی
آنکھ سُونا نگر آب گھر ہو گئی
ہر دوا ہر دعا بے اثر ہو گئی
رُخ بہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو نہریں اِس درجہ بے خود بہیں
بس اِرادہِ سبقت میں بہتی گئیں
اِیک گُل ہی تو تھا کیا ہوا گِر گیا
دستِ لاغر سے ایسا جُرم کیا ہوا
جس پہ ہر حصہ بدنی ہوا مُنتشر
ایسی دُرگت میں کیا کیا ستم نہ سہے
ہم بساَ بار بلدہ بدر بھی ہو ئے
ایسا ہرگز نہیں تُجھ کو ڈھونڈا نہیں
ہم تیری کھوج میں دربدر بھی ہوئے
ہم تیرے بعد ایسے بھی زندہ رہے
تھے سرِبام زیرِ قبر بھی ہوئے
ہم نے شب کی سیاہی کو کوسا نہیں
ہم وہی تھے جو پہلے سحر بھی ہوئے
خود کو سمجھایا بھی بے صبر بھی ہوئے
دل تیرے واسطے آب و بر بھی ہوئے
ہر قدم پر زمانے کا دھڑکا بھی تھا
پُر خطر دور میں بے خطر بھی ہوئے
نام پر حرف تیرے نہ آیا گوہر
حاشیے اپنے زیر و زبر بھی ہوئے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






