حاشیے اپنے زِیر و زَبر بھی ہوئے

Poet: imran Gohar By: imran Gohar, Faisalabad

ایک گُل کیا گِرا ہاتھ سے چھوٹ کر
ہم کو تیرے بچھڑنے کی یاد آ گئی
دل جُڑا ہی نہیں تھا ابھی ٹوٹ کر
پھر سے تیرے بچھڑنے کی یاد آگئی
آنکھ سُونا نگر آب گھر ہو گئی
ہر دوا ہر دعا بے اثر ہو گئی
رُخ بہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو نہریں اِس درجہ بے خود بہیں
بس اِرادہِ سبقت میں بہتی گئیں

اِیک گُل ہی تو تھا کیا ہوا گِر گیا
دستِ لاغر سے ایسا جُرم کیا ہوا
جس پہ ہر حصہ بدنی ہوا مُنتشر

ایسی دُرگت میں کیا کیا ستم نہ سہے
ہم بساَ بار بلدہ بدر بھی ہو ئے

ایسا ہرگز نہیں تُجھ کو ڈھونڈا نہیں
ہم تیری کھوج میں دربدر بھی ہوئے
ہم تیرے بعد ایسے بھی زندہ رہے
تھے سرِبام زیرِ قبر بھی ہوئے
ہم نے شب کی سیاہی کو کوسا نہیں
ہم وہی تھے جو پہلے سحر بھی ہوئے
خود کو سمجھایا بھی بے صبر بھی ہوئے
دل تیرے واسطے آب و بر بھی ہوئے
ہر قدم پر زمانے کا دھڑکا بھی تھا
پُر خطر دور میں بے خطر بھی ہوئے

نام پر حرف تیرے نہ آیا گوہر
حاشیے اپنے زیر و زبر بھی ہوئے

Rate it:
Views: 426
02 Jan, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL