حریف تھا میرا مگر دِقّت ہوئی بھُلانے میں

Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahore

حریف تھا میرا مگر دِقّت ہوئی بھُلانے میں
اِک عُمر گزری خود کو بلندی پر لے جانے میں

پہلے محبت کی رنگینیوں سے آراستہ تھا جیون
پھر مایوسیوں سے جا لگے اپنے اپنے ٹھکانے میں

وہ اُلجھنیں دیتا گیاٗ ہم شمار کرتے گئے
ہاتھ تھا اسی کا مجھے کامیاب بنانے میں

کچھ وقت نے بھی دئیے پھر سہارے ہم کو
کچھ ہم بھی کھو گئے جنگل کو جنت سا سجانے میں

رخصت کر دیں میں نے سب غم کی مجبوریاں
فلک سے ستاروں کو زمیں پہ لانے میں

ہر دن نئی گھبراہٹیںٗ ہر دن نئی آفتیں
جا ! مَیں نہیں آتی یہ دنیا بسانے میں

تم لاکھ کہو! ہم دل سے نہیں اُتریں گے
کچھ وقت تو لگے گا تمہیں یقیں دلانے میں

Rate it:
Views: 529
30 Oct, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL