چھُوا تلووں سے میں نے رستۂ دشوار کے سفر کو

Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahore

چھُوا تلووں سے میں نے رستۂ دشوار کے سفر کو
تو پایا رگِ آگ ہیں لمحہ لمحہ بھی اِس نگر کے

پچھلے پہروں میں تم روتے دکھائی نہ دیئے تو کہنا
میری سوچ سے دیکھوٗ گزرے وقت سے گزر کے

باریک بینیوں سے تُو میری کبھی جا نہ پائے گا
تُو تحلیل ہے اِک اِک ذّرے میں میری نظر کے

اب تو دردِ جاں سے ہی سکون حاصل کیا جائے
مے بنائیے آنسوؤں میں خونِ رگِ نبض کو بھر کے

ضرورت ہے ناقص جیون کو قوی سہاروں کی
شانوں کو کاٹ لاؤ کسی توانا شجر کے

کھونا پانا ہی منتحب ہوا ہے ریکھاؤں سے
دو شگوفوں میں بٹے ہیں حصّے مجروح عمر کے

اِک اِک پَل میں نے نامِ زندگی کیا ہے
اور ہر پل کھویا ہے تجھے اِک اِک پَل ٹھہر کے

Rate it:
Views: 477
30 Oct, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL