حسرت عوام
Poet: Atthar Wani By: Atthar Wani, Azad Kashmir تو بھی پاکستانی ہے
میں بھی پاکستانی ہوں
ہیں تو دونوں ایک ہی ملک کے شہری
حاکم کا جہاں اور ہے عوام کا جہاں اور
کھا کھا کے جوتیاں چومتے ہیں تمہی کو
کتنا ہی کر لو ذلیل پوجتے رہیں تمہی کو
تیری آن بان شان پہ جائیں سب قربان
تیرا بیٹا ہی بنے لیڈر دیتا ہوں یہ زبان
میرا لیڈر میرا حاکم زبردست، شاندار، بے مثال
زندہ رہنے کو ہے اب یہی کام
عوام کیا ملک بھی ہو تم پر قربان
تمہی سے ہے اس ملک کا کرپشن میں مقام
یہ ملک تمہارا ہے بمعہ عوام
بیچو، تحفہ دو یا نیلام ہے مختار نامہ عام
جاگیر دار٬ سرمایہ دار، فوجی اور بیوروکریٹ
یہی ہیں شہنشائے پاک نام
انہی کے دم سے ملک کا ہو رہا ہے کام تمام
رونا نہیں آﺅ کریں کتھک ڈانس
یہ ملک بنا ہے تمہارے لئے
بناﺅ عوام کو ایندھن دھندے چلانے کے لئے
ملک کے رکھوالے سلطنت سجانے چلانے والے
انہی کے دم سے ہے ہماری عزت بے نام
آﺅ کریں سجدہ ان کی تعظیم کا
مطلوب ہو اگر تمہیں امان اور نان
کر نہ سکے کوئی بات اس نظام باطل کے خلاف
دشمن ملک کے ایجنٹ کا قانون اور فتویٰ لگا دو
سجی رہے یہ دکان چلتا رہے تیرا کام
ملک و عوام رہیں ناشاد و ناتمام
اللہ اور قوت دے تیرے شوق پرواز کو
ملک و عوام مر مٹیں یورپ میں رہے تیرا خاندان
تو بھی پاکستانی ہے
میں بھی پاکستانی ہوں
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






