حسیں تھا چمن کو بہاروں نے لوٹا
Poet: By: AB shahzad, Mailsiحسیں تھا چمن کو بہاروں نے لوٹا
ہمیں یار اپنے ہی پیاروں نے لوٹا
نزاکت ادا وہ کروفر نہیں ہے
حسیں حسن کو اب نظاروں نے لوٹا
امیروں کی مرضی چلی اب نہیں یے
امیروں کو غربت کے ماروں نے لوٹا
خسارے پہ ہوتے خسارے رہے ہیں
حکومت کو ان کے اداروں نے لوٹا
چلی ہی نہیں حکومت تو ان کی
انہیں اپنے امید واروں نے لوٹا
بہا کے گیا لے ہے پانی کا ریلا
زمیں کو ندی کے کناروں نے لوٹا
تجارت میں نقصان الٹا ہوا ہے
نئے روز آئے خساروں نے لوٹا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






