میری خوشی میرے مولا مجھے عطا کردے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadمیری خوشی میرے مولا مجھے عطا کردے
یا اپنی خوشی پہ ہی راضی بَرضا کردے
مار ڈالے گی میرے دل کی یہ کسک مجھ کو
مقدرسے میرے غم کے سائے جدا کر دے
تڑپ تڑپ کے نہیں مجھ سے جیا جاتا ہے
میری دھڑکنوں کو ہی دل سے جدا کر دے
بجُز تیرے نہیں ہے کوئی پُرساں میرا
چین دل کا میرے کہیں سے بھی لا کر دے
میرےمولا زندگی میں یہ معجزہ کر دے
وہ میرا نہیں بھی ہے تو اُسے میرا کردے
میرے نصیب کے کانٹے تو ہی چن سکتا ہے
گل و گلزار میرے آنگن کی فضا کر دے
ہجر کا غم تو میری زیست کا خاصہ ہے ہی
وصل کے لمحوں کو بھی مجھ سے آشنا کر دے
دامن میں میرے بھر دے غم اس کے
میرے نصیب کی خوشیا ں اسے عطا کردے
تیرے بغیر بھی میں جی سکوں ہنس کر
جاتے جاتے میرے لیے یہ دعا کر دے
میرے صیاد تجھ کو ربط ہے مجھ سے اگر
تو قیدِ الفت سے مجھے اب رہا کردے
یا د کے دریچوں سے نا جھانک رضا
تجھ سےہو سکے تو میرا یہ بھلا کر دے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






