میری خوشی میرے مولا مجھے عطا کردے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadمیری خوشی میرے مولا مجھے عطا کردے
یا اپنی خوشی پہ ہی راضی بَرضا کردے
مار ڈالے گی میرے دل کی یہ کسک مجھ کو
مقدرسے میرے غم کے سائے جدا کر دے
تڑپ تڑپ کے نہیں مجھ سے جیا جاتا ہے
میری دھڑکنوں کو ہی دل سے جدا کر دے
بجُز تیرے نہیں ہے کوئی پُرساں میرا
چین دل کا میرے کہیں سے بھی لا کر دے
میرےمولا زندگی میں یہ معجزہ کر دے
وہ میرا نہیں بھی ہے تو اُسے میرا کردے
میرے نصیب کے کانٹے تو ہی چن سکتا ہے
گل و گلزار میرے آنگن کی فضا کر دے
ہجر کا غم تو میری زیست کا خاصہ ہے ہی
وصل کے لمحوں کو بھی مجھ سے آشنا کر دے
دامن میں میرے بھر دے غم اس کے
میرے نصیب کی خوشیا ں اسے عطا کردے
تیرے بغیر بھی میں جی سکوں ہنس کر
جاتے جاتے میرے لیے یہ دعا کر دے
میرے صیاد تجھ کو ربط ہے مجھ سے اگر
تو قیدِ الفت سے مجھے اب رہا کردے
یا د کے دریچوں سے نا جھانک رضا
تجھ سےہو سکے تو میرا یہ بھلا کر دے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






