حضرت مولانا حافظ طیب صاحب رحمتہ اللٰٔہ علیہ خلیفہ شیخ الاسلام رحمتہ اللٰٔہ علیہ کی حیات کے چند نمایاں پہلو
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaکہوں کس سے میں کہ کیا تھے وہ جو رہبرِ زمانہ
وہ ہر دلعزیز طیب وہ ہی فاتحِ زمانہ
وہ قرآں کے تھے محافظ وہ قرآں کے تھے معارف
وہ ہی ان کی رگ و پے میں وہ ہی ان کا تھا خزانہ
وہ تھے حامیانِ سنت وہ تھے قاطعاتٍ بدعت
نہ غلو تھا زندگی میں وہ ہی چالِ درمیانہ
جو تھے سادگی میں یکتا جوتھے عاجزی میں یکتا
نہ طلب تھی خسروی کی نہ اندازِ خسروانہ
وہ تھے نیکیوں کے خوگر وہ تھے خوبیوں کے پیکر
جو قدم بھی اٹھتے اٌن کے وہ قدم تھے فاتحانہ
یہ جو دین کی تھی خدمت تو بے لوث ہی یہ ہوتی
نہ طلب تھی اس سے شہرت نہ ہی مال اور خزانہ
جو نگاہ اٌن کی ہوتی وہ نگاہِ مشفقانہ
جو کلام اٌن کا ہوتا وہ کلامِ عارفانہ
جو خطاب اُن کا ہوتا وہ خطابِ ناصحانہ
جو ادا بھیان کی ہوتی وہ ادائے دلبرانہ
جو عمل بھی اُن کا ہوتا وہ عمل بھی مخلصانہ
جو نوا بھی ان کی ہوتی وہ نوائے عاشقانہ
کوئی آتا اٌن کے در پر وہ پاتا ان کو رہبر
وہ دکھاتے راہ حق کی وہ تھے مرشدِ زمانہ
نہ گِلہ کسی کا ہوتا نہ ہی لب پہ تھی شکایت
کہ وہ ذات بے ضرر تھی رہا معترف زمانہ
یہ ہی اثر کی دعا ہے کہ ہوں وہ غریقٍ رحمت
تو قبول ہو ہی جائے جو مشن تھا مخلصانہ
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






