حور پریاں جسےدیکھ کررشک کریں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamکیا کہیں تیرے بن کیسی حالت ہے
اب اور جدائی سہنے کی نہ ہمت ہے
میرےمن کہ درپن میں تیری صورت ہے
مجھےاور کسی کی نہ ضرورت ہے
حورپریاں جسےدیکھ کررشک کریں
میری نظر میں تو اتنی خوبصورت ہے
یوں بات بات پہ مجھ سےروٹھا نہ کرو
کہتے ہیں اتفاق میں بڑی برکت ہے
ہماری تم سے اتنی سی گزارش ہے
کیا اب ملنے کی کوئی نہ صورت ہے
نہ جانے تم کب پھول چڑھانےآؤگے
انتظار میں میرےارمانوں کی میت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






