خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ اپنی زباں سے مجھے کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
جب بات شروع کی ہمیشہ ہم نے شروع کی
ہم بولتے رہتے ہیں وہ خاموش رہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
ان کو یہ ڈر کہیں یہ شہرہ عام نہ ہو جائے
پر تولتا پنچھی کہیں بدنام نہ ہو جائے
وہ اس لئے سنی بھی ان سنی کئے دیتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
حق تو ہے مگر مجھ سے ناراض نہیں ہوتے
میری خطاؤں کو بڑے آرام سے سہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
حسرت ہے مجھ سے وہ کبھی تکرار بھی کریں
لیکن میری ہر بات پہ چپ چاپ ہی رہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
وہ خندہ جبیں، کم سخن وہ صاحب ادراک
سنتے ہیں میری بات پر اپنی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
وہ اپنی زباں سے مجھے کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






