خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ اپنی زباں سے مجھے کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
جب بات شروع کی ہمیشہ ہم نے شروع کی
ہم بولتے رہتے ہیں وہ خاموش رہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
ان کو یہ ڈر کہیں یہ شہرہ عام نہ ہو جائے
پر تولتا پنچھی کہیں بدنام نہ ہو جائے
وہ اس لئے سنی بھی ان سنی کئے دیتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
حق تو ہے مگر مجھ سے ناراض نہیں ہوتے
میری خطاؤں کو بڑے آرام سے سہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
حسرت ہے مجھ سے وہ کبھی تکرار بھی کریں
لیکن میری ہر بات پہ چپ چاپ ہی رہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
وہ خندہ جبیں، کم سخن وہ صاحب ادراک
سنتے ہیں میری بات پر اپنی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
وہ اپنی زباں سے مجھے کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
خاموش نگاہوں سے مجھے دیکھتے رہتے ہیں
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






