خاک رشتے وفا کے نبھائے گا وہ

Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK

خاک رشتے وفا کے نبھائے گا وہ ۔
غیر ھے بیگانہ پن دکھائے گا وہ۔

اس کو کیا غرض کوئی جئے یا مرے؟
کیوں کسی کیخاطر آنسو بہائے گا وہ؟

وہ جو خود غرض ھے یار مطلبی !
کیسے وفا کی قیمت چکائے گا وہ؟

جس کو نفرت ہو پیار کے نام سے۔
پیار کیا ھے کیسے جاں پائے گا وہ؟

ہو پسند جس کو دور رہنا الگ !۔
میلا محبت کا کسطرح لگائے گا وہ ؟

مانا درد رکھتا ھے دل میں بےحساب۔
مگر ستمگری کا حساب کیسے چکائے گا وہ؟

اس میں کوئی شک نہیں اپنی بقا کیخاطر۔
یار عشق میں سولی ہم کو چڑھائے گا وہ۔

ھے وہ کندہ دل پر ھمیشہ کے لیے۔
دیکھیتے ہیں نام اپنا کس طرح مٹائے گا وہ؟

Rate it:
Views: 442
27 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL