چلو درد دل کی دوا ڈھوںڈھتے ہیں

Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK

چلو درد دل کی دوا ڈھوںڈھتے ہیں۔
ابن مریم سا کوئی مسیحا ڈھوںڈھتے ہیں۔

ڈوبا جا رہا ھے پیار کا سفینہ اپنے۔
کوئی چارہ کشائی نا خدا ڈھوںڈھتے ہیں۔

پیار حقیقت ھے جب کوئی خواب نہیں۔
پھرعقل کے اندھے کیا ڈھوںڈھتے ہیں؟

یہیں کہیں پڑا ہوگا جگر کے پاس
تھوڑا صبر دل! ابھی ذرا ڈھوںڈھتے ہیں۔

سنا ھےاسکو ضرورت ھے بھروسہ مند کی
شاید اس لیے وہ اہل وفا ڈھوںڈھتے ہیں۔

وہ جنکو جینے سے کوئی مطلب نہ ہو۔
وہ اکثر موت کا راستہ ڈھوںڈھتے ہیں۔

Rate it:
Views: 436
27 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL