خذبہ دکھانے کے لیے لوگ ہیں نا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiجذبہ دکھانے کے لیے لوگ ہیں نا
خون بہانے کے لیے لوگ ہیں نا
گر یہ بنانی ہیں تو یادیں ہی بنا
فوٹو بنانے کے لیے لوگ ہیں نا
پیار اگر کرنا ہے تو خود سے ہی کر
اوروں سے کرنے کے لئے لوگ ہیں نا
اگر یہاں رہنا ہے خاموش رہو
باتیں بنانے کے لئے لوگ ہیں نا۔۔
رکھنا بھروسہ ہے تو خود پہ رکھو
ساڑ تو کھانے کے لئے لوگ ہیں نا
اچھا اگر کرنا ہے خود کو ابھی کر
نیچا دکھانے کے لئے لوگ ہیں نا
اپنی ہی شہزاد تو پہچان بنا
ساتھ نبھانے کے لئے لوگ ہیں نا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






