جوش دلانے کے لیے دوست ہیں نس
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiجوش دلانے کے لیے دوست ہیں نا
تالی بجانے کے لیے دوست ہیں نا
پوچھنے والا نہیں کوئی بھی یہاں
سچ کو چھپانے کے لیے دوست ہیں نا
ہوگی نہیں یار کسی کو خبر
کال کرانے کے لیے دوست ہیں نا
اپنی حقیقت نہ چھپا سچ بتا دے
جھوٹا بنانے کے لیے دوست ہیں نا
میرے جنازے پہ نہیں آئے صنم
آنسو بہانے کے لیے دوست ہیں نا
میری ضرورت نہیں ہے اب تو وہاں
کھانا کھلانے کے لیے دوست ہیں نا
چلتی ہے حکومت مری شہزاد یہاں
پیسہ لٹانے کے لیے دوست ہیں نا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






