خزائیں بانٹنے آئی تھیں مجھ سے درد اپنے
Poet: Farman Ali ARman By: Farman Ali Arman, vehariبگڑ کر پھر سنور جانا ضروری ہو گیا تھا
پرانے زخم بھر جانا ضروری ہو گیا تھا
محبت کی صداقت کو پرکھنا تھا مجھے بھی
مرا تجھ سے بچھڑجانا ضروری ہو گیا تھا
کسی کے عشق کی گہرائی مجھ کو جاننا تھی
سمندر میں اُتر جانا ضروری ہو گیا تھا
مجھے بدنام ہونا تھا، سو، اپنی پی وفا پر
کوئی الزام دھرجانا ضروری ہو گیا تھا
خزائیں بانٹنے آئی تھیں مجھ سے درد اپنے
میں کیا کرتا بکھر جانا ضروری ہو گیا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






