چشمِ شوق سے اشکِ خون بہنے لگے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaچشمِ شوق سے اشکِ خون بہنے لگے
وہ جب سے مری نظروں سے دور رہنے لگے
ہم ہے پیکرِ حقیر یہ مانتے ہیں
اب زمانے کے ساتھ ساتھ وہ بھی کہنے لگے
جتن کرتے تو ہیں ہجراں غم بُھلانے کی
عشق کی طرح اس میں بھی ناکامیاں سہنے لگے
گھنگو ہیں ابرِ الم مرے قلب پے دوست
موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے راہ نزع کی تکنے لگے
دل ِ آویز تھا اُس کی ہر ادا کا جلوہ
دل کے خلاوں کو خیالوں سے اس کے بھرنے لگے
جوبن کا قصور تھا یا نادانی کا نہال
اس کو سنوارتے سنوارتے خود بکھڑنے لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






