خطا کتنی سزا کتنی محبت میں جفا کتنی
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotخطا کتنی سزا کتنی محبت میں جفا کتنی
مرےجب سامنے آیئں تو کرنی ہے حیا کتنی
کسی کے بات کرنے سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے
مگر تم نے نبھائی تھی ارے ہم سے وفا کتنی
ابھی تو شعر باقی ہیں کدھر کو چل دیے صاحب
ابھی تو یہ بتانا ہے ملی تم سے ضیا کتنی
نہیں جو حوصلہ تم میں یہ سننے کا تو سوچو ناں
صبوحی چھوڑ کر ہم کو ملی ہو گی شفا کتنی
وہ گزری بات چھوڑو تم ابھی کی بات کرتے ہیں
اگر ہم چھوڑ دیں تم کو ہمیں ہو گی سزا کتنی
سبھی الزام ہیں مجھ پر تمہی معصوم ہو شائد
چلو سب جان جایئں گے کہ کس میں تھی صفا کتنی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






