خواب ہیں تو خواب
Poet: UA By: UA, Lahoreخواب ہیں تو خواب کی تعبیر ہونی چاہیے
تعبیر کے لئے مگر تدبیر ہونی چاہیے
جو دوسروں کے ساتھ تیرا عکس بھی دکھا دے
تیرے آئینے میں ایسی اک لکیر ہونی چاہیے
آپ جو کہتے ہیں سچ کہتے ہیں اے بندہ نواز
کہ میری گفتگو میں جا بجا تاثیر ہونی چاہیے
جو ہمیں اک دوسرے کے روبرو کرتی رہے
اک ایسی اپنے درمیاں زنجیر ہونی چاہیے
کوئی خطا کرنے سے پہلے اتنا سوچیے
کہ قابل معافی ذرا تقصیر ہونی چاہیے
اے طائران خوشن نوا تو گنگنائے جا
لیکن تیرے نغمات میں تاثیر ہونی چاہیے
جو اہل گلستان میں روح حیات پھونک دے
تیری صدا کچھ ایسی دلگیر ہونی چاہیے
اس کے ہنسی مذاق میں سنجیدگی بھی ہو
نمکین اور میٹھی یہ تحریر ہونی چاہیے
جو زندگی کے سارے رنگوں کی ترجماں ہو
میری دسترس میں ایسی تصویر ہونی چاہیے
جو کفر و شرک کے سبھی بت پاش پاش کر دے
مومن تیرے ہاتھوں میں وہ شمشیر ہونی چاہیے
عظمٰی جو بے حسی کی دیواریں توڑ دے
تقریر ایسی کر جو گمبھیر ہونی چاہیے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






