خواب ہیں تو خواب

Poet: UA By: UA, Lahore

خواب ہیں تو خواب کی تعبیر ہونی چاہیے
تعبیر کے لئے مگر تدبیر ہونی چاہیے

جو دوسروں کے ساتھ تیرا عکس بھی دکھا دے
تیرے آئینے میں ایسی اک لکیر ہونی چاہیے

آپ جو کہتے ہیں سچ کہتے ہیں اے بندہ نواز
کہ میری گفتگو میں جا بجا تاثیر ہونی چاہیے

جو ہمیں اک دوسرے کے روبرو کرتی رہے
اک ایسی اپنے درمیاں زنجیر ہونی چاہیے

کوئی خطا کرنے سے پہلے اتنا سوچیے
کہ قابل معافی ذرا تقصیر ہونی چاہیے

اے طائران خوشن نوا تو گنگنائے جا
لیکن تیرے نغمات میں تاثیر ہونی چاہیے

جو اہل گلستان میں روح حیات پھونک دے
تیری صدا کچھ ایسی دلگیر ہونی چاہیے

اس کے ہنسی مذاق میں سنجیدگی بھی ہو
نمکین اور میٹھی یہ تحریر ہونی چاہیے

جو زندگی کے سارے رنگوں کی ترجماں ہو
میری دسترس میں ایسی تصویر ہونی چاہیے

جو کفر و شرک کے سبھی بت پاش پاش کر دے
مومن تیرے ہاتھوں میں وہ شمشیر ہونی چاہیے

عظمٰی جو بے حسی کی دیواریں توڑ دے
تقریر ایسی کر جو گمبھیر ہونی چاہیے

Rate it:
Views: 514
10 Aug, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL